باب ششم
کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محض ہبہ ہے کیونکہ اگر وہ نہ چاہتے تو زوجین ساری عمر کسب کرتے رہیں اوران کو کوئی چیز نہ دے اور اگر چاہے توجہاں مطلقاً کسب نہ ہووہاں دیدے جیسا کہ حوا علیہاالسلام اور عیسیٰ علیہ السلام۔
جواب نمبر4:
نبوت کو کسبی ماننا کفر ہے۔
حوالہ نمبر1:
محدث جلیل قاضی عیاض مالکی ؒ کا حوالہ
محدثِ جلیل قاضی عیاضؒ(ابوالفضل عیاض بن موسیٰ المالکی476ھ۔544ھ) الشفاء بمعرفۃ حقوق المصطفٰی میںنبوت کو کسبی کہنے والے کے بارے میں لکھتے ہیںکہ:
’’وَ کَذٰلِکَ مَنِ ادَّعٰی نُبُوَّۃَ اَحَدٍ مَّعَ نَبِیِّنَا ﷺ اَوْ بَعْدَہٗ …-أَومَنِ ادَّعَی النُّبُوَّۃَ لِنَفْسِہٖ اَوْ جَوَّزَ اکْتِسَابَھَا وِالْبُلُوْغَ بِصَفَائِ الْقَلْبِ اِلیٰ مَرْتَبَتِھَا،کَالْفَلَاسِفَۃِوَغُلَاۃِالْمُتَصَوِّفَۃِ وَکَذٰلِکَ مَنِ ادَّعٰی مِنْھُمْ اَنَّہٗ یُوْحٰی اِلَیْہِ وَاِنْ لَمْ یَدَّعِ النُّبُوَّۃَ ……-فَھٰٓؤُلَائِ کُلُّھُمْ کُفَّارٌ مُکَذِّبُوْنَ لِلنَّبِیِّ ﷺ لِاَنَّہٗ اَخْبَرَ ﷺ اَنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَانَبِیَّ بَعْدَہٗ۔‘‘
حاصلِ عبارت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبی ﷺ کے ساتھ کسی اور نبی کی نبوت کا اقرار کرے یعنی حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہر ی میں یا حضور ﷺ کی حیات ِ ظاہری کے بعد ۔۔۔۔اگر کوئی شخص اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا منصب نبوت کو وہبی نہیں بلکہ اکتسابی قرار دیتا ہے یا غالی صوفیوں اور فلاسفہ کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ صفائے قلب سے نبوت کا منصب حاصل ہو جاتا ہے یا اپنے اوپر وحی کے آنے کا مدعی ہو اگرچہ وہ نبوت کا دعوی نہ بھی کرے۔۔۔۔ تو ایسے تمام لوگ کفار ہیں جو نبی ﷺکی تکذیب کررہے ہیںاور اس کے کفر کی دلیل سید المرسلین کا وہ ارشاد ہے جس میں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی کوبھی منصبِ نبوت و رسالت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔