باب ششم
اور منزلِ رفاقت‘‘کو ہی ٹھہرایا ہے۔ محض صرفی و لغوی وغیرہ تحقیق سے آیتِ قرآن مجید کا معنی متعین نہیں ہوتا۔ یہاں علامہ راغب نے کسی بھی قسم کی ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی،کسبی اور غیر کسبی نبوت کے اجراء، شریعتِ جدیدہ کے ظہور اور مصحفِ آسمانی کے نزول کا دُور دُور تک کہیں ذکر نہیں فرمایا۔۔۔ قادیانیو!اگر تم میں جرأت ہے تو امام راغب کی اصل کتاب سے پوری عبارت سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرو۔
نوٹ:
استادِ محترم حضرت سفیرِ ختم نبوت رحمہ اللہ دورانِ اسباق اِس بحث میں اکثر قاضی نذیر کے ساتھ اپنے ایک 1954ء کے مناظرے کا واقعہ بیان کرتے تھے۔جس میں آپ نے قاضی نذیر سے مطالبہ کیا کہ امام راغب کی اصل کتاب سے عبارت پیش کریں مگر ُاس نے عبارت پیش نہ کی۔ اس پر آپ نے بطور الزام فرمایاکہ پھریہ عبارت امام راغب کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ مرتبین اور دیگر کئی احباب نے اس واقعہ کو اپنے ذوق کے مطابق درج کیا یا درج کئے بغیر نتیجہ نکالا کہ یہ عبارت امام راغب کی کسی کتاب میں نہیں ہے جو درست نہیں ہے۔حضرت چنیوٹی ؒ کی قلمی کاپی میں اس قسم کی کوئی تحریر موجود نہیں ہے۔
(ہمارا سوال): کیا نبوت وہبی ہے یا کسبی ؟۔۔۔۔ اگر کہو کہ نبوت وہبی ہے تو تمہارا استدلال ختم، کیونکہ تم جس نبوت کے قائل ہووہ تو کسبی ہییعنی کہ وہ اطاعت سے حاصل ہوتی ہے اور اگر کہو کہ ہے ۔۔۔۔تووہبی لیکن کسب کو دخل ہے جیسا کہ:
ترجمہ: ’’جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے‘‘۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل توجب اس میں کسب کادخل ہے تو وہ کسبی بھی ہوگئی صرف وہبی نہیں اور کسبی نبوت غلط ہے جیسا کہ آئندہ واضح کیا جاتا ہے۔ باقی جو آیت آپ نے پیش کی ہے اول تو وہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ کہاں اولاد کا پیدا ہونا اور کہاں نبوت کا عطا ہونا۔ دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ یہاں کسب کو دخل ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہاں کسب