باب ششم

حوالہ نمبر 2: علامہ شعرانیؒ کا حوالہ 

علامہ شعرانیؒ(الشیخ عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانیؒ898؁ھ۔973؁ھ) اس سوال کے جواب میں کہ نبوت وہبی ہے یا کسبی، لکھتے ہیں کہ: 

 ’’(فَاِنْ قُلْتَ) فَھَلِ النُّبُوَّۃُ مُکْتَسَبَۃٌ اَوْ مَوْھُوْبَۃٌ( فَالْجَوَابُ) لَیْسَتِ النُّبُوَّۃُ مُکْتَسَبَۃً حَتّٰی یَتَوَصَّلَ اِلَیْھَا بِالنُّسُکِ وَالرِّیَاضَاتِ کَمَا ظَنَّہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْحَمْقٰیِ (کالقادیانیۃ)… وَقَدْ اَفْتَی الْمَا لِکِیَّۃُ وَغَیْرُھُمْ بِکُفْرِ مَنْ قَالَ اِنَّ النُّبُوَّۃَ مُکْتَسَبَۃٌ۔‘‘  

یعنی کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟تو اس کاجواب عرض خدمت ہے‘کہ نبوت کسبی نہیں ہے کہ محنت وکاوش سے اس تک پہنچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں (مثلاً قادیانی فرقہ: اَزناقل) کا خیال ہے …مالکیہ وغیرہ نے نبوت کو کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ 

جواب نمبر5:

اس آیت میں ہے ’’مَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ‘‘ اور ’’مَنْ‘‘ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے۔ اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ 

 مَا ھُوْ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا 

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف 

حوالہ نمبر۱: 

 وَلَا شَکَّ اَنَّ الْتَحْدِیْثَ مَوْھَبَۃٌمُجَرَّدَۃٌ لَا تُنَالُ بِکَسْبٍ اَلْبَتَّۃَ کَمَا ہُوَ شَاْنُ النَّبُوَّۃِ۔ 

  ترجمہ:  بے شک محدثیت ایک خالص موھبت ہے جو شان نبوت کی طرح محض کسب کے ذریعے حاصل نہیںہوتی۔  

یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے، کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوتی۔‘‘