باب ششم

شیعہ مصنفین نے امام راغب کو اپنا مقتداء لکھا ہے چنانچہ الشیخ عباس القمی کی تصنیف ’’اَلْکُنٰی وَ الْاَلْقَابُ‘‘ جلد 2، ص208، العلامہ الشیخ آقا بزرگ الطہرانی ’’اَلذَّرِیْعَۃ اِلٰی تَصَانِیْفِ الشِّیْعَۃ‘جلد 5ص45 اورعمادالدین حسن بن علی الطبرسی ’’اَسْرَارُالْاِمَامَۃِ‘‘ صفحہ17اور514پر لکھتے ہیں کہ ’’أِنَّہٗ کَانَ مِنْ حُکَمَائِ الْشِیْعَۃِ الْاِمَامِیَّۃِ‘‘ یعنی وہ شیعہ امامیہ کے حکماء میں سے تھے۔ ۔۔تفسیرِ راغب، جو نایاب اورنامکمل ہے(سورۃ النساء کی قریباً 111آیات تک دو جلدوں میںہے)۔ اور اسے مختلف ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔۔۔ اِن اسباب کی موجودگی میں امام راغب کے شخصی، تفسیری قول یا توجیہہ جو اسلام کے بنیادی اور اساسی عقیدہ ٔ ختمِ نبوت کے خلاف ہو ، کو کس طرح حجت قرار دیا جاسکتا ہے ؟؟؟۔۔۔اور اسے بطور دلیل پیش کرنا قادیانیوں کی دجالیت کا روشن پہلوہے۔ 

 جواب نمبر4: 

 امام راغب کا اپنا عقیدہ کیا ہے؟ وہ خود ختم نبوت کے قائل ہیں اور آقا دوعالم ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت و رسالت اور دین وشریعت کی ضرورت کو مسترد کرتے ہیں۔۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں: 

’’کُنْتُ قَدْ ذَکَرْتُ فِی الرِّسَالَۃِ المُنَبِّھَۃِ عَلٰی فَوَائِدِ الْقُرْآنِ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ کَمَا جَعَلَ النُّبُوَّۃَ بِنَبِیِّنَامُخْتَتَمَۃً، وَجَعَلَ شَرَائِعَھُمْ  بِشَرِیْعَتِہٖ مِنْ وَجْہٍ مُنْتَسَخَۃًوَمِنْ وَجْہٍ مُکَمَّلَۃً مَتَمَّمَۃً کَمَا قَالَ تَعَالیٰ:(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ أتْمَمْتُعَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا)۔جَعَلَ کِتَابَہُ الْمُنَزَّلَ عَلَیْہِ مُتَضَمِّنًا ثَمَرَۃَ کُتُبِہِ الَّتِی أَوْلَاھَاأَوَائِلَ الْأُمَمِ‘‘۔ 

ترجمہ:

قبل ازیں ہم اپنی کتاب ’’اَلرِّسَالَۃُ المُنَبِّھَۃُ عَلٰی فَوَائِدِ الْقُرْآنِ‘‘میں اس امر کی وضاحت کر چکے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت  پر سلسلۂ نبوت کو ختم کر دیا ہے اور دین اسلام کو تمام ادیان کا ناسخ اور اسے ہر پہلو سے جامع و مکمل بنایا ہے،