باب ششم
آپ کی اتباع اور اقتدا کرے گا۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی، ضمیمہ براہینِ احمدیہ کے صفحہ 133پر خود تسلیم کرتا ہے کہ ’’یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت کی امت میں داخل ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَتُؤْ مِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۔پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے‘‘
جواب نمبر3:
امام راغب اصفہانی کا قول کئی وجوہ سے ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ مثلاً امام راغب کے حالاتِ زندگی واضح نہیں ہیں۔ کب پیدا ہوئے اور کہاں پیدا ہوئے؟ کہاںاور کس سے تعلیم حاصل کی؟ کچھ معلوم نہیں۔ چنانچہ’’ المفردات فی غریب ِ القرآن‘‘ کے مقدمہ (صفحہ 7) پر درج ہے کہ:
’’الامام ابو قاسم حسین بن محمد بن المفضّل المعروف بالراغب الاصفہانی غَیْرَ مَعْرُوْفٍ مَتٰی وُلِدَ، وَلَا أَیْنَ تَلَقَّی الْعِلْمَ ‘‘۔
اس سے واضح ہوا کہ اما م راغب کی پیدائش اور تحصیلِ علم کے متعلق کچھ پتا نہیںہے۔علاوہ ازیںان کی شہرت لغت و ادب، شعر وحکمت اور تصوف وغیرہ میںہے۔تفسیر، حدیث یا فقہ میں ان کی بات حجت نہیں۔اسی طرح ان کے مسلک کے بارے میں ابہام موجود ہے۔علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ’’بغیۃ الوعاۃ فی طبقات اللغویین والنحاۃ‘‘ میں امام راغب کو ائمۂ اہلِ سنت میں شمار کرتے ہیں۔ اور امام فخرالدین رازی’’تَاسِیْسُ التَّقْدِیْس‘‘ میں انہیں اہلِ سنت قرار دیتے ہیں۔۔۔۔ صاحبِ ’’اَعْیَانُ الشِّیْعَہ‘‘ لکھتے ہیں کہ:
’’ اکثر علماء نے تصریح کی ہے کہ امام راغب معتزلی تھے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ بھی تھے، کیوںکہ معتزلہ اور شیعہ عموماً اصول میں متحد ہیں اور اصحابِ تراجم معتزلہ اور شیعہ کا تذکرہ ایک ساتھ کرتے ہیں‘‘۔ اور صاحبِ ’’روضات الجنات‘‘ نے تصریح کی ہے کہ ’’کسی شخص کے مسلکاًشیعہ ہونے کی علامت ہی یہی ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بجائے نام کے امیر المؤمنین کے لقب سے ذکر کرتے ہیں‘‘۔ علامہ راغب بھی ایسا ہی کرتے رہے۔