باب ششم
چنانچہ فرمایا:’’آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین کوکامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور بحیثیت دین تمہارے لئے اسلام پسند کیا ‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر نازل کردہ کتاب یعنی قرآن پاک میں تمام سابقہ کتبِ سماویہ کے مطالب و مضامین کا نچوڑ اور خلاصہ جمع کر دیا ہے ۔ (مفردات القرآن اردو،جلد 1ص23)
امام راغب کی مذکورہ بالا تحریر سے ہر قسم کی ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی، کسبی اور غیر کسبی نبوت کا دروازہ مسدود ہو چکا ہے ۔ دین و شریعت کے تمام پہلو اسلام کی شکل میں مکمل ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے بعد احکامِ الٰہی پر مبنی وحی ربانی ، الہامِ قطعی اور صحفِ آسمانی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
جواب نمبر5:
جیسا کہ ابھی آپ نے پڑھا ہے کہ قادیانی یہ عبارت اما م راغب کی کسی کتاب میں سے پیش نہیں کرتے بلکہ امام ابو حیان محمد بن یوسف الاندلسیؒ کی تفسیرالبحرالمحیط سے پیش کرتے ہیں۔قادیانی تلبیسات کے بنیادی مآخذ ’’ احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک‘‘ صفحہ 112 مؤلف قاضی نذیر احمد طبع دوم جون 2012ء اور مکمل تبلیغی پاکٹ بک، مؤلف ملک عبدالرحمن خادم، صفحہ 255، پر ان دونوں حضرات نے تفسیر البحرالمحیط کے حوالہ سے درج کی ہیں۔کوئی قادیانی امام راغب کی اصل کتاب سے عبارت پیش نہیں کرتا۔۔۔۔ کیوںکہ امام راغب نے اس آیت کی تفسیر میں اپنے ذوقِ لغت کے مطابق پہلے مفردات کی صرفی، لغوی اور نحوی تحقیق کی ہے اورپھر آیت کا معنی متعین کرنے کے لئے اپنے مخصوص صوفیانہ مزاج کے موافق ممکنہ توجیہات لکھی ہیں، جہاں پر علامہ اندلسیؒ نے ان پر علمی گرفت کی ہے۔
اس مقام پر بھی علامہ راغب اپنے صوفیانہ رنگ میں اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کرنے والے اعمالِ خیر کے حامل افراد کا جنت میں مقام و منزل، اجرو ثواب اور معیت و رفاقت کو ثابت کر رہے ہیںاور بحث کے آخر میں شانِ نزول رقم فرما کر آیت کا معنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے ’’مقام ِمعیت