باب ششم

 امام راغب کی عبارت سے قادیانی استدلال مع جوابات 

مرزائی اعتراض:   

ہم نے جو معنی کیاہے ،امام راغب (المتوفیٰ 502؁ھ)ہمارے معنی کی تائیدکرتے ہیںکیونکہ وہ فرماتے ہیں : 

’’قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ اَنَعْمَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْفِرَقِ الْاَرْبَعِ فِی الْمَنْزِلَۃِ وَالثَّوَابِ اَلنَّبِیُّ بِالنَّبِیِّ وَالصِّدِّیْقُ بِالصِّدِّیْقِ وَالشَّھِِیْدُ بِالشَّھِیْدِ وَالصَّالِحُ بِالصَّالِحِ وَاَجَازَ الرَّاغِبُ اَنْ یَّتَعَلَّقَ مِنَ النَّبِیِّیْنَ لِقَوْلِہٖ وَمَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَالرَّسُوْلَ اَیْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَمِنْ م بَعْدِھِمْ‘‘۔ 

ترجمہ ’’امام راغب نے کہاہے کہ ان چار گروہوں میں شامل کرے گا مقام اور نیکی کے لحاظ سے۔ نبی کو نبی کے ساتھ اور صدیق کو صدیق کے ساتھ اور شہید کو شہید کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ۔ اور راغب نے جائز قرار دیا ہے کہ اس امت کے نبی بھی نبیوں میں شامل ہوں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا : وَمَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَالرَّسُوْلَ یعنی مِنَ النَّبِیِّیْنَ(نبیوں میں سے)‘‘  ۱ ؎۔

دیکھئے ا س عبارت سے صاف واضح ہورہا ہے کہ جب ’’مِنَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کو  ’’مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ ‘‘کے متعلق کریں گے تو معنی یہ ہوگا کہ نبیوں میں سے جو ا اور اس کے  

  ۱ ؎ ۔ قاضی نذیر نے اس عبارت کا کچھ حصہ لکھ کر یوں ترجمہ کیا ہے:’’راغب نے کہا ہے کہ یعنی ان چار گروہوں میں درجہ اور ثواب میں شامل کر دے گا جن پر اس نے انعام کیا ہے۔ اسی طرح کہ اللہ اور آنحضرت  کی اطاعت کرکے نبی بننے والے کو نبی کے ساتھ شامل کردے گا اور اطاعت کرکے صدیق بننے والے کو صدیق کے ساتھ شامل کردے گا اور اسی طرح شہید کو شہید کے ساتھ ملا دے گا اور صالح کو صالح کے ساتھ ملا دے گا‘‘۔