باب ششم

رسول کی اطاعت کرے گا وہ ایسا ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ اس امت میں بھی کچھ نبی ہونے چاہییں جو رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں اگر نبوت کادروازہ بند ہے تو اس آیت کے مطابق وہ کون سانبی ہوگا جو رسول اﷲ کی اطاعت کرے گا؟؟؟؟۔ 

جواب نمبر1: 

یہ حوالہ قادیانیوں نے علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسیؒ ( 654؁ھ۔۔۔۔ 745؁ھ) کی تفسیر البحر المحیط سے پیش کیا ہے۔ اور اس حوالہ کے پیش کرنے میں بھی انہوں نے اپنے روایتی دجل و فریب سے کام لیا ہے اور پوری عبارت درج نہیں کی۔ ۔۔ حالانکہ علامہ اندلسیؒ نے یہ قول نقل کرکے اس کی سخت ترین الفاظ میں تردید فرمائی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں 

’’وَھٰذَا الْوَجْہُ الَّذِیْ ھُوَ عِنْدَہٗ ظَاھِرٌ فَاسِدٌ مِنْ جِھَۃِ الْمَعْنٰی وَ مِنْ جِھَۃِ النَّحْو‘‘۔ 

یعنی نحوی غلطی یہ ہے کہ ’’مِنَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ جزا کا جزء ہے اور یہاں اسے شرط کا جزء قرار دیا جارہا ہے او رمعنوی غلطی یہ ہے کہ یہ عبارت ختم نبوت کے خلاف ہے۔‘‘ اب اسے علامہ راغب کا سہواور سبقتِ قلم ہی کہا جاسکتا ہے،جس پر علامہ اندلسیؒ جیسے عظیم مفسر، محدث اور فقیہ نے کلام کیا ہے۔ 

جواب نمبر 2: 

اگر اما م راغب کے قول کوصحیح بھی تسلیم کرلیا جائے توبھی ہمارے خلاف نہیں ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام، حضورﷺ کے امتی اور متبع ہیں(جسے مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتا ہے،حوالہ آخر میں موجود ہے) ؛دیکھئے شب معراج میں تمام انبیاء علیہم السلام نے آپ کی اتباع اور اقتدا کی اور بیت المقدس میں آپ کی امامت میں نماز ادا کی، اس کے علاوہ انبیا ء سابقین اور اسرائیلی سلسلہ کے آخری نبی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کی رو سے قیامت سے قبل اس امت میں تشریف لائیں گے اور آپ ﷺ کی شریعت کی اتباع اور اطاعت کریں گے۔ لہذا انبیاء میں سے ایک فرد کا مل ایسا مل گیا جو