باب ششم
کبھی ’’مِنْ‘‘ کے معنی میں نہیں آتا۔ باقی رہی وہ آیات جو قادیانیوں نے مغالطہ دیتے ہوئے پیش کی ہیں ان میں سے کسی ایک آیت میں بھی ’’مَعْ؍مِنْ‘‘ کے معنوں میں نہیں ہے۔ دیکھئے ’’وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَار‘‘ کی تفسیر میں مشہور مفسر امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (543ھ606-ھ)کیا معنی کرتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدّد بھی ہیں:
’’انَّ وَفَاتَھُمْ مَعَھُمْ ھِیَ أَنْ یَّمُوْتُوْا عَلٰی مِثْلِ اَعْمَالِھِمْ حَتّٰی یَکُوْنُوْا فِیْ دَرَجَاتِھِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَدْ یَقُوْلُ الرَّجُلُ اَنَا مَعَ الشَّافِعِیِّ فِیْ ھٰذِہِ الْمَسْئَلَۃِ وَیُرِیْدُ بِہٖ کَوْنَہٗ مَسَاوِیًا لَّہٗ فِیْ ذٰلِکَ الْاِعْتِقَاد‘‘۔
ترجمہ: ’’ان کا ان (ابرار) کے ساتھ وفات پانا اس طرح ہو گا کہ وہ ان نیکوں جیسے اعمال کرتے ہوئے انتقال کریں تاکہ قیامت کے دن ان کا درجہ پالیں جیسے کبھی کوئی آدمی کہتا ہے کہ میں اس مسئلہ میں شافعیؒ کے ساتھ ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا اعتقاد رکھنے میں وہ اور امام شافعیؒ برابر ہیں۔(نہ یہ کہ وہ درجہ امام شافعیؒ تک پہنچ گیا)‘‘۔
جواب نمبر2:
بفرضِ محال اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ ’ مَعْ؍مِنْ‘‘کے معنی میں بھی کسی جگہ استعمال ہوتا ہے تو اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ اس آیت میں بھی ’’ مَعَ؍مِنْ‘‘ کے معنی میں ہے یہاں پرکسی ایک مفسر نے بھی یہ معنی نہیں لئے۔
جواب نمبر 3:
جب کوئی لفظ دو معنوں میںمستعمل ہوتو دیکھا جاتا ہے کہ حقیقی معنیٰ کون سا ہے اورمجازی معنی کون سا ہے؟جب تک معنیٰ کی حقیقت ’’مُتَعَذَّرْ‘‘ نہ ہوتو مجاز ی معنی کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا ’’مَعَ ‘‘معیت اور رفاقت کے معنی میں حقیقت ہے اور یہاں حقیقت ’’مُتَعَذَّرْ‘‘ نہیں ہے بلکہ ’’وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا‘‘کا جملہ صاف اور صریح دلالت کررہا ہے کہ یہاں ’’مَعَ‘‘معیت کے معنی میں ہے ورنہ یہ جملہ کلام الٰہی میں بالکل بے فائدہ اور