باب ششم
ایک ضروری تنبیہ
قادیانیوں کی سب سے بڑی عیاری یہ ہے کہ دعویٰ تو اس خاص قسم کی نبوت کا ہے لیکن وہ عام موضوع اجرائے نبوت رکھ کر بحث شروع کردیتے ہیں اور ایسے عام دلائل پیش کرتے ہیں جوان کے خاص دعویٰ کے مطابق نہیںہوتے بلکہ وہ دلائل ان کے اپنے مسلمات کے خلا ف ہوتے ہیں۔
نوٹ:
اکثر اوقات مرزائی امکان نبوت کی بحث چھیڑ دیتے ہیں یہاں امکان کی بحث نہیں ہے وقوع کی بحث ہے اگر وہ امکان کی بحث چھیڑیں تو تریاق القلوب کی درج ذیل عبارت پیش کریں:
’’ مثلاً ایک شخص جوقوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتاہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھا تا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میںبھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہوچکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اسے جوتے بھی مارے ہیں اوراس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ (پاخانہ) اٹھاتے ہیں اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کرکے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہوجائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کرآوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا لیکن باوجود اس امکان کے جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔‘‘
جب یہ عبارت پڑھیں تو ساری پڑھ دیں کیونکہ عموماً تھوڑی سی عبارت پڑھنے