باب ششم
کے بعد مرزائی کہتے ہیں کہ آگے پڑھو اور مجمع پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ یہاں پر یہ واقعہ بھی ملحوظ خاطر رہے جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پر روم گئے تھے اور قیصر روم نے انہیں اپنے دربار میں بلاکر سوال پوچھے تھے جن میںسے ایک سوال حضور ﷺ کے خاندان کے بارے میں بھی تھا جس کا انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ایک بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور قیصر روم کا اس پر تبصرہ یہ تھا کہ انبیا ء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کیے جاتے ہیں۔
اجرائے نبوت پر مرزائیوں کے دلائل
آیت نمبر1:
1۔ ’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّایَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ…الخ‘‘۔
ترجمہ: اے آدم کے بیٹواور بیٹیو! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سنائیں …الخ.
قادیانی طرز استدلال:
یہاںیَاْتِیَنَّکُمْ مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو کہ حال اور استقبال پر دلالت کرتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہو ا کہ نبوت ہمیشہ کیلئے جاری ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔
جواب نمبر 1:
آپ کی دلیل دعوے کے مطابق نہیں کیونکہ رسول کا لفظ عام ہے اور تمہارا دعویٰ خاص قسم کی ظلی و بروزی نبوت کا ہے۔ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور مُحَدَّثْ داخل ہیں‘‘۔