باب ششم

حوالہ نمبر2: 

’’اس جگہ یہ یاد رہے کہ آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے اوّل تشریعی نبوت۔۔۔۔ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے ۔دوئیم وہ نبوت جس کے لئے تشریعی یعنی حقیقی ہونا ضروری نہیں ۔۔۔۔ ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔تیسری قسم نبوت کی  ظلی نبوت ہے۔۔۔۔مگر آپ (محمد ﷺ)کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہوگیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولاگیا۔‘‘  

حوالہ نمبر 3: 

  ’’انبیاء علیہم السّلام دو قسم کے ہوتے ہیں: (1) تشریعی(2) غیر تشریعی۔ پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں: (1) براہ راست نبوت پانے والے۔ (2) نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت حاصل کرنے والے۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ کے پیشتر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے‘‘۔ 

تبصرہ:

مذکورہ بالا حوالہ جات سے قادیانیوں کا دعویٰ واضح ہوگیا کہ ان کے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں جن میں دو بند ہیں۔ ایک خاص قسم (ظلی بروزی) جو کہ نبی اکرم  ﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے وہ جاری ہے لہٰذا اب خاص دعویٰ کے مطابق ان سے خاص دلیل کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ قادیانیوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہمیں قرآن و حدیث کی وہ دلیل پیش کرو جس میں: 

1۔  ظلی بروزی نبوت کا ذکر ہو۔ 

2۔  وہ نبوت حضور ﷺ کے بعد جاری ہوئی ہو۔  

وہ نبوت کسبی ہو وہبی نہ ہو۔  

وہ نبوت مرزا قادیانی کے علاوہ کسی کو نہ مل سکتی ہو۔ 

ہم بلا خوف ِ تردید یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان تنقیحا ت اربعہ کے مطابق وہ اپنے دعویٰ پر ایک دلیل بھی پیش نہیں کر سکتے ۔