باب پنجم

موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے  ’’ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیَّاً مَا وَسِعَہٗ اِلَّا اتِّبَاعِیْ‘‘۔  

یعنی اگر موسیٰ  ؑزندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ 

حدیث نمبر3: 

شرح فقہ اکبر کی روایت پیش کی جاتی ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام آتا ہے ’’لَوْ کَانَ عِیْسٰی حَیَّاً لَمَا وَسِعَہٗ اِلَّا اتِّبَاعِیْ‘‘۔ یعنی اگرعیسیٰ ؑزندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ 

جواب: 

یہ کاتب کی غلطی ہے ۔ ہندوستانی نسخوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اس غلطی پر’ فقۂ اکبر‘ کی اندرونی شہادتیں موجود ہیں ، خاص کر مصنف ’شرحِ فقہ اکبر‘ ملا علی قاری حیاتِ مسیح کے قائل ہیں۔

!!!مرزائیوں کی حالت زار!!! 

مرزا ئی عموماً ایک معمولی سی بات لے کر اس میں رکیک تاویلیں کر کے اپنا اُلو سیدھا کرنیکی کوشش کرتے ہیں کسی نے سچ کہا ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘۔ مرزائیوں کی اس حالت زار پریہ رباعی بالکل فٹ ہے جو اخبار جنگ 21 مارچ 1965ء سے ماخوذ ہے: 

یہ سب آثار ہیں جہل و جنوں کے 

یہ سب اطوار ہیں زار و زبوں کے 

یہ چاروں لفظ ہیں مکر و فسوں کے 

اگر، لیکن، چنانچہ اور چونکہ