باب ششم

مسئلہ ختم نبوت وا جرائے نبوت

تنقیح موضوع:

جب کوئی مرزائی اجرائے نبوت کے موضوع پر گفتگو کرے ، بحث شروع کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ پہلے موضوع اور دعویٰ کو منقح کرلیں، جب تک دعویٰ واضح نہ ہو جائے کسی قسم کی بحث کرنا بالکل بے سود ہے۔ 

واضح ہوکہ مرزائی مطلق اجرائے نبوت کے قائل نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت کے حضور ﷺ کے بعد جاری ہونے کے قائل ہیں لہذا ضروری ہے کہ پہلے اس خاص قسم کو واضح کیا جائے جو ان کے نزدیک جاری ہے پھر اس خاص دعویٰ کے مطابق اس قسم کی خاص دلیل کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ دعویٰ اور دلیل میںمطابقت ضروری ہے ورنہ یہ کھلی بد دیانتی ہے کہ دعویٰ خاص ہو اور دلیل اس کیلئے عام پیش کی جائے ہم بلاخوف و تردّد دعویٰ کرتے ہیں کہ قادیانی اپنے خاص دعویٰ کے مطابق قرآن وحدیث سے ایک بھی صحیح دلیل پیش نہیں کرسکتے۔ 

قادیانیوں کے نزد یک نبوت کی اقسام 

حوالہ نمبر 1: 

’’میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ ایک جو شریعت لانے والے ہیں، دوسرے جو شریعت تونہیں لاتے لیکن ان کو  بلاواسطہ نبوت ملتی ہے اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں جیسے سلیمان ،زکریا ، یحییٰ علیہم السلام اور ایک وہ جونہ شریعت لاتے ہیںاور نہ ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں اور سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے‘‘۔