باب پنجم
تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پرجمع ہوتے ہیں۔سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے‘‘۔
حوالہ نمبر5:
’’بڑا شوق رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہو مگر خداکا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا ہے اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے‘‘۔
حوالہ نمبر6:
اور کتاب تاریخ طبری کے صفحہ ۷۳۹میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسیٰ کی قبر کا بھی حوالہ دیا ہے۔ جو ایک جگہ دیکھی گئی یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسیٰ کی قبر ہے۔ یہ قصہ ابن جریر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر او رآئمہ حدیث میں سے ہے مگر افسوس کہ پھر بھی متعصب لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔
مرزا قادیانی کی یہ آخری تصنیف ہے ،گویا یہ مرزا کا آخری عقیدہ ہوا۔ہم اس روایت کی وضاحت مرزا کے مرید خاص مرزاخدا بخش قادیانی کی تصنیف سے جو مرز اکی تصدیق شدہ ہے ، سے کرتے ہیں۔ہم عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے حوالے سے اس روایت کے حصہ کو نقل کررہے ہیں ، پوری روایت کو عسل مصفّٰی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
’’۔۔۔۔ عَلٰی رَأْسِ الْجَمَاء جَبَلٌ بِالْعَقِیْفِ مِنْ نَاحِیَۃِ الْمَدِیْنَۃَ۔ یعنی (قبر عیسیٰ) پہاڑی کی چوٹی پرہے جسے جماء کہتے ہیں اور وہ عقیف میں ہے جو نواح مدینہ میں ہے‘‘۔
حوالہ نمبر7: مرزا قادیانی کو اس پر بھی جب یقین نہ آیا تو ایک جگہ لکھا کہ ’’توممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو‘‘۔