باب پنجم

کشتیٔ نوح کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناً پچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہو گئے تھے۔ اور وہ کاغذ ایک عیسائی کمپنی نے اڑھائی لاکھ روپیہ دے کر خرید لیا ہے۔ کیوںکہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریرہے

اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر 83سال ہو گئی۔  

جواب نمبر 6۔

  23برس کی متواتر وحی کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر: 

مرزا قادیانی کو اگر اس حدیث پر یقین تھا تو اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے بارے میں شک اور تضاد بیانی کا بازار کیوں گرم کیا ہے؟ حالانکہ وہ لکھتا ہے کہ: ’’میں خداتعالیٰ کی تئیس۲۳برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں میں اُس کی اِس پاک وحی پرایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں‘‘۔ 

اب مرزا قادیانی کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے بارے میں متضاد بیان ملاحظہ فرمائیں: 

حوالہ نمبر1: ’’یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میںجا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا‘‘۔    

حوالہ نمبر2: ’’اور لطف تو یہ کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجو دہے‘‘۔ 

حوالہ نمبر3: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے ۔اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے۔اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے۔او راس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں کی قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں ‘‘۔

حوالہ نمبر4: ’’ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی قبر کی پرستش ہوتی ہے۔اور مقررہ