باب پنجم
علمائے کرام نے اس حدیث کی دوسری احادیثِ صحیحہ سے یوں تطبیق دینے کی کوشش کی ہے کہ نبوت سے قبل 40 سال،نبوت کے بعد 33سال ،دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے بعد 45سال زندہ رہیں گے ۔اس اعتبار سے مجموعی عمر118 سال ہوئی اور کسر والے سال ملا کر 120 سال بن جائیں گے اور جس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاسات سال رہنے کا تذکرہ ہے، اس سے مراد دجال کے قتل کے بعد امام مہدی (محمد بن عبداللہ علیہ الرضوان)کی معیت کے سات سال ہیں۔ (دیکھیٔے فیض الباری وغیرہ)
اس میں بھی مرزا قادیانی کے تحریر کردہ کشمیرکے 87سالوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ ۔۔۔ قادیانیو! اگر ہمت ہے تو کسی بھی مجدد، مفسر اور محدث جو بین الفریقین مسلّم ہو، کا صحیح قول تو درکنار ضعیف قول ہی دکھا دو۔ جس میں یہ تحریر ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام 87سال کشمیر میں رہے اور پھر وہیں فوت ہو کر مدفون ہو گئے۔
جواب نمبر 4:
یہاں بھی ’’عَاشَ‘‘ ماضی کا صیغہ ہے اوریہ امر یقینی ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا،اس لئے یہاں صیغہ ماضی استقبال کے معنی پر دلالت کرتاہے ،اس اصول کو مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے ۔
جواب نمبر 5:
بارش کی طرح وحی کے زیر سایہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر
اگر یہ حدیث صحیح تھی تو مرزا قادیانی کو اتنی تضاد بیانی کی کیوں ضرورت پڑی؟؟؟ باوجود اس کے ۔۔۔مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی وحی سے مجبور ہو کر لکھاہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابنِ مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی