باب پنجم
جواب نمبر 1: یہ حدیث شریف قابلِ استدلال نہیں ہے کیونکہکنزالعمال میں بغیر سند کے درج ہے اور المعجم الکبیر میں سند تو موجود ہے مگر اس میںراوی محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان پر محدثین کا کلام موجود ہے۔
جواب نمبر2: یہ حدیث عقلاً، روایتاً اور درایتًا محال ہے کیونکہ اس حدیث کے شروع میں یہ مضمون ہے کہ ہربعد میں آنے والا نبی پہلے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے۔ ۱؎
اب اگر عیسیٰ علیہ السلام سے دس بیس انبیاء اوپر شمار کئے جائیں تو ان کی عمر لاکھوں کروڑوں سال تک پہنچ جائے گی۔ اگر آدم علیہ السلام تک چلیں توآدم علیہ السلام کی عمر اس حساب سے اتنی بنے گی کہ موجودہ دور میں حساب کرنے والے تمام کمپیوٹر اور کیلکولیٹر سب فیل ہوجائیں گے ۔ حساب کرنے سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اوپر بیسویں نبی کی عمر 6 کروڑ29 لاکھ 14 ہزار 5 سو 60 سال بنتی ہے جو عقلاً اور نقلاً محال ہے اور اگر حضرت آدم علیہ السلام کی عمر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف حساب کیا جائے تو عمر سیکنڈز(Seconds) میں آ جائے گی۔ اور اگر اولوالعزم پیغمبروں کی عمر کا حساب مدِنظررکھا جائے تو پھر بھی غلط ہے۔مثلاً: حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تو صرف تبلیغ کی تھی۔ ان کی عمر قریباًساڑھے تیرہ سو سال ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمروں کو دیکھ لیا جائے تو وہ بھی اس قاعدہ و کلیہ سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔
جواب نمبر 3:
بفرضِ محال اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس حدیث کا معنی اور مفہوم ایسا لیناہوگا جو دوسری احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف نہ ہو ۔اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض
۱؎ لَمْ یَکُنْ نَّبِیٌّ اِلَّا عَاشَ نِصْفَ عُمَرَ الَّذِیْ کَانَ قَبْلَہٗ وَ اَنَّہٗ اَخْبَرَنِیْ، اَنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَاشَ عِشْرِیْنَ وَمِئَۃَ سَنَۃًفَلَا اَرَانِیْ اِلَّا ذَاھِبًا عَلٰی رَأسِ السِّتِّینَ۔