باب پنجم
طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔
اب ہم مرزا قادیانی کی اپنی (خودساختہ الہامی)تحریروں کے اندر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر میں تضاد پائے جانے کا جائزہ لیتے ہیں:
حوالہ نمبر1:
’’اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد عیسیٰ ابنِ مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی ۔
اس میں واقعہ صلیب کے 33سال اور بعد کے 120سال ملائیں تو 153سال عمر بنتی ہے۔
حوالہ نمبر2:
’’اور امام مالک نے کہا ہے کہ عیسیٰ مر گیا اور وہ 33برس کا تھا جب فوت ہوا۔
اس عبارت میں مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر 33سال تسلیم کر لی ہے۔اس کے آگے مرزا قادیانی علماء اور مسلمانوں کو بے نُقط سناتے ہوئے لکھتا ہے ’’اور پھر یہ لوگ کہیں کہ ان کی حیات پر اجماع ہے ۔شرم۔ شرم۔ شرم‘‘۔
حوالہ نمبر 3:
واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسیٰ ؑکی عمر قریباً ۳۳ سال اور حضرت پطرس کی عمر اسوقت تیس چالیس کے درمیان تھی۔
حوالہ نمبر 4:
ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس برس عمر پائی ہے۔ لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اس وقت حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا جب کہ آپ کی عمر صرف تینتیس برس او رچھ مہینے کی تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ باقی ماندہ عمر بعد نزول پوری کر لیں گے تو یہ دعوی حدیث کے الفاظ سے مخالف ہے، ماسوا اس کے حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا تو اس طرح پر تینتیس(۳۳) برس ملانے سے کل تہتر(۷۳) برس ہوئے نہ کہ ایک سو بیس (۱۲۰)برس۔