باب پنجم

مرزائی اعتراض: 

یہاں تَوَفَّیْتَنِیْ کا معنی موت ہی ہے جیساکہ بخاری شریف میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم  ﷺ کے سامنے جب چند لوگوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو آپ نے فرمایامیں اس وقت کہوں گا جیسا کہ عبد صالح نے کہا تھا۔ ’’اَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ‘‘ جب حضور  ﷺ  تَوَفَّیْتَنِیْ کا لفظ بولیں گے تو یہاں بالاتفاق مراد موت ہے اسی سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مقولہ میں بھی اس سے مراد موت ہے۔ 

جواب نمبر1: 

یہاں بھی مرزائیوں نے اپنی روایتی بے ایمانی، دجل یا اپنی جہالت کا ثبوت دیا ہے یہاں عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ دونوں غیر غیر ہیں جس پر’’  کَمَا‘‘ کا لفظ ِتشبیہ دلالت کر رہا ہے کیونکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغایرت ضروری ہے اگر حضور ﷺ کا مقولہ بھی وہی مقولہ ہوتا تو آپ’’  کَمَا‘‘ کی بجائے مَا کا لفظ استعمال فرماتے، حضور ﷺ نے جو حدیث میں فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْپڑھا ہے وہ آپ کا مقولہ نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے۔’’ کَمَا‘‘  کا لفظ تغائر چاہتا ہے ورنہ’’  کَمَا ‘‘ کا مفہوم باطل ہو جا تا ہے جیسے  اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِداً عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاo

یعنی ’’بے شک ہم نے تمہارے پاس ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر (قیامت کے روز) گواہی دیں گے جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا‘‘ ۔ 

جواب نمبر 2: 

اگر عیسیٰ علیہ السلام اور حضور نبی اکرم ﷺ کا مقولہ ایک مان بھی لیاجائے تب بھی تشبیہ کی وجہ سے ان کے معنی میں مغایرت پیدا کرنی پڑے گی لہذا عیسیٰ علیہ السلام جب بولیں گے تو معنی رفع ہوگااور حضو ر ﷺ بولیں گے تو معنی موت ہوگا۔مرزا بھی یہ قاعدہ مانتا ہے کہ: ’’مشبہ اور مشبہ بہ میںکچھ مغائرت ضروری ہے‘‘۔