باب پنجم

جواب نمبر3: 

کیا یہ ضروری ہے کہ جب ایک لفظ دو مختلف شخصیتوں پر بولاگیا ہو تو اس کا معنی ایک ہی لیاجائے؟ کیوں نہ دونوں شخصیتوں کیلئے علیحدہ علیحدہ ان کے مناسب معنی لیا جائے ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولاجائے توحسب حیثیت و شخصیت اسکے جدا جدا معنی ہوسکتے ہیں۔ دیکھئے عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدا کیلئے بھی ’’تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ‘‘

یعنی آپ تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتے ہیں اور میں آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا‘‘ توکیا خدا او رمسیح کا نفس ایک طرح کا ہے ؟ ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی  تَوَفِّیْ، اَخْذُالشَّیْئِ وَافِیًا ہے کیونکہ اگر موت مراد لی جائے تودیگر نصوص صریحہ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ذکر ہے ان کے خلاف ہوگا۔ 

جواب نمبر 4: 

ہم پیچھے براہین احمدیہ اور سراج منیر کے حوالہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ یہاں ’’  تَوَفِّیْ  ‘‘کا معنی موت نہیں بلکہ پوری نعمت دینے یا ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچانے کے ہیں تو مرز ا کے اس معنی کے مطابق آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ’’اے اﷲ جب تو نے مجھے اپنی غالب تدبیر سے ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچا لیا اور انکی تدبیروں کو خاک میں ملا دیا یعنی مجھے آسمانوں پر اٹھالیا توپھر اس کے بعد تونگران ہے اور میں تو اس وقت تک نگران اور ذمہ دار ہوں جب تک ان میں موجود رہا۔‘‘ 

آیت نمبر 2: 

’’مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘۔

ترجمہ: مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں اور آپ سے پہلے رسول گزر چکے۔ 

آیت نمبر 3: 

’’وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘۔