باب پنجم

جواب نمبر 2: 

اگر عیسیٰ علیہ السلام کے جواب میں علم کی نفی پائی جائے تو بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے آپ اس مکالمے سے پہلے مذکور مکالمے کوبھی ملاحظہ فرمائیں جو تمام انبیاء سے ہورہا ہے کہ جب تما م نبی اﷲ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اپنی ذات کی لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔حالانکہ تمام نبی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انکی امتوں نے انہیں کیا جواب دیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں 

’’ یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْط قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوب‘‘۔

ترجمہ:  جس دن اﷲ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو اکٹھا فرمائیں گے پس فرمائیں گے تم کیاجواب دیے گئے تھے عرض کریں گے کہ ہمیں علم نہیں بے شک تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔ 

جواب نمبر 3: 

مرزا صاحب خود تسلیم کررہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت سے قبل ہی اپنی امت کے بگاڑ کا علم ہوجائے گا لہٰذا اب آپ بتائیں جب انہیں قیامت سے قبل علم ہوچکا توان کانفی علم کا جواب کیسے درست ہوگا ؟ 

فَمَا ھُوَ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا (جو تمہارا جواب ہے وہی ہمارا جواب ہے ) 

حوالہ نمبر1:  ’’میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیا گیا کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیامیں پھیل گئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی‘‘۔  

حوالہ نمبر2: ’ ’خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میںیہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم او ر تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیاہے۔‘

یہاںمرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر موجود ہونا بھی خود تسلیم کر رہا ہے۔