باب پنجم

ہوئے ہیں ان کے وہ ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ جب تک کہ میں ان میں زندہ تھا میں ذمہ دار تھا لیکن جب تو نے مجھے وفات دی تو میں ذمہ دار نہیں رہا اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ اب فوت ہوچکے ہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ وہ موجودہ بگڑے ہوئے تمام عیسائیوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ صاف صاف فرماتے ہیں کہ تَوَفِّی سے پہلے کی زندگی کا میں ذمہ دار ہوں اور تَوَفِّیکے بعد کا ذمہ دار نہیں ۔ نیز جب بقول تمہارے عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اپنی بگڑی ہوئی امت میں آئیں گے اور ان کوبگڑے ہوئے دیکھیں گے تو قیامت کے روز اﷲ کے سامنے کس طرح لاعلمی کا اظہار کرسکیں گے یہ تو نعوذ باﷲ جھوٹ بنتا ہے۔ 

جواب نمبر 1: 

آیت مذکورہ میں تَوَفَّیْتَنِیْ کا معنی وفات اور موت نہیں بلکہ رَفَعْتَنِیْ وَقَبَضْتَنِیْ کے معنی ہیں اور اکثر مفسرین نے آیت مذکور کے یہی معنی کئے ہیں۔ کوئی مفسر یا مجددایسا نہیں ملتا جو بین الفریقین مسلّم ہو اور اس نے اس آیت سے صریحاً وفات مسیح ثابت کرکے رفع ونزول کے عقیدہ سے انکار کیاہو۔ 

لہذاآیت ِمذکورہ میں تقابل موت و حیات کا نہیں بلکہ موجودگی اور عدم موجودگی کا ہے جس پر مَادُمْتُ فِیْہِمْ کے الفاظ صریح دلیل ہیں کہ مَادُمْتُ حَیًّا   نہیں فرمایا ،معلوم ہوا کہ وہ اپنے زمانہ موجودگی کے ذمہ دار ہیں اور عدم موجودگی کے ذمہ دار نہیں بلکہ یہ الفاظ اس بات پر بھی دلیل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات میں کوئی زمانہ ایسا بھی ہونا چاہیے کہ جس میں آپ ان کے اندر موجود نہ ہوں اور زندہ ہوں۔ 

جواب نمبر 2: 

مرزائیوں کا یہ دعویٰ بھی بے دلیل ہے کہ بگاڑ اور عدمِ بگاڑ میں حدِ فاصل موت ہے۔  بلکہ موجودگی اور عدم موجودگی ہے جیسا کہ مرزائی تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کشمیر چلے جانے کے بعد اُن کی وفات سے قبل ہی عقائدِ باطلہ اختیار کر چکے تھے۔