باب پنجم
فائدہ: چشمۂ معرفت میںمرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد تیس سال میں بائبل کے اندر تحریف ہوگئی تھی اور نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنالیا تھاجبکہ تحفۂ گولڑویہ اور کشتیٔ نوح سمیت دیگر کئی کتب میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد کشمیر چلے گئے تھے جہاںوہ 87سال تک زندہ رہے۔خلاصہ یہ ہوا کہ بگاڑ اور عدم بگاڑ میں حد فاصل موت نہیں بلکہ موجودگی اور عدم موجودگی ہے۔
مرزائی اعتراض:
بقول آپ کے جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں اپنی بگڑی ہوئی قوم کے اندر تشریف لائیں گے اور ان کی زبوں حالی ملاحظہ فرمائیں گے تو وہ قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ کے سامنے کس طرح لاعلمی کا اظہار کرسکیں گے یہ تو غلط بیانی اور صریح جھوٹ ہوگا جوان کی شان رفیع سے بعید ہے لہذا معلوم ہوا کہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور انہیں اپنی بگڑی ہوئی امت کا کوئی علم نہیںہوگا۔
جواب نمبر 1:
عیسیٰ علیہ السلام سے سوال علم یا لا علمی کا نہیں ہوگا بلکہ کہنے یانہ کہنے کا ہوگا یہ مرزائیوں کا صریح دھوکہ اور غلط بیانی ہے ذرا قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیں :
’’وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَایَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّط…الخ‘‘۔
ترجمہ: اور (اس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اللہ کہے گا کہ ’’اے عیسیٰ ابنِ مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہاتھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟‘‘وہ کہیں گے ’’ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے)پاک سمجھتے ہیں۔میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔۔۔۔الخ‘‘۔
دیکھئے یہاں پر کیسی تصریح موجو د ہے کہ سوال کہنے کے متعلق ہے جواب میں بھی کہنے کی نفی ہے نہ یہاں علم کا سوال ہے اور نہ علم کی نفی ہے ۔