باب پنجم
کے حوالہ سے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر2کی تفسیر کے ذیل میں یہ حدیث لائے ہیں۔جس میں آپﷺ نے وفد نجران کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ وَاَنَّ عِیْسٰی یَأْتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُ‘‘۔
ترجمہ :
کیایہ تم نہیں جانتے کہ ہمارا پروردگار زندہ ہے ، نہیں مرے گا اور بیشک عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔
یہ حضور ﷺ نے اسوقت فرمایا جبکہ عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ ہوا آپ نے فرمایا کہ تم عیسیٰ کو کس طرح اُلُوہیت کا درجہ دیتے ہو؟جبکہ ان پر فنا آئے گی۔ اس میں آپ نے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا جو استقبال پر دال ہے اگر واقعی فو ت ہوچکے ہوتے تو حضور ﷺ فرماتے ’’أَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَائُ.‘‘۔یعنی ’’وہ فنا ہو چکے ہیں‘‘ یا’’وفات پاگئے ہیں‘‘۔
اعتراض: علامہ واحدی نیشا پوری کی اسباب النزول میں ’’أَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَائُ‘‘ موجود تھا جسے حذف کر دیا گیا ہے۔
جواب:
قادیانیوں نے یہاں بھی اپنے روایتی دجل اور دروغ گوئی سے کام لیا ہے۔جب ہم نے آج سے قریباً 591سال قبل کے صاحب تفسیر علامہ نظام الدین نیشاپوری (صاحب تفسیر غرائب القرآن)کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے علامہ واحدی نیشا پوری سے اس روایت کواسی طرح یعنی یَأْتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُکے ساتھ نقل کیا ہے جو چ591سالوں تک مختلف نسخوں میں موجود رہا ہے۔انیسوی صدی کے پچاس اور ساٹھ کے عشرہ میں مصر کے ادارے سے طباعت میں غلطی ہو گئی۔جسے قادیانیوں نے مرزا