باب پنجم
حاصل عبارت یہ ہے کہ’’ حضرت یونس بن عمیر ؒ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری ؒ سے پوچھا کہ اے ابو سعید!آپ تو یقینا یوں کہا کرتے ہیں :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ(اللہ کے رسول نے فرمایا)حالانکہ آپ نے ان کا زمانہ نہیں پایا؟ تو حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا اے بھتیجے! تو نے ایک ایسے معاملہ کے بارے میں پوچھا ہے جس کے بارے میں تجھ سے پہلے کسی اور نے مجھ سے سوال نہیں کیااو راگر میرے ساتھ تیرایہ خصوصی (اہمیت کا حامل) تعلق نہ ہوتا تو میں تجھ کو( اس حقیقت سے) آگاہ نہ کرتا۔ جس دَور سے میں گزر رہا ہوں وہ تیری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور وہ حجاج کی عملداری کا دَور تھا (اے میرے عزیز!)۔ ہر وہ چیز جس کے بارے میں مجھ سے یہ سنو ’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ‘‘ (اللہ کے رسول نے فرمایا) تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابو طالب کے واسطے سے ہو گی مگر میں ایک ایسے زمانے میں ہوں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تذکرہ پرقدرت نہیں رکھتا ہوں‘‘۔۔۔ گویا حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے حالات کے نشیب و فراز کی وجہ سے انتہائی احتیاط سے کام لیا۔