باب چہارم
کرکے روایت کیا کرتا تھا۔ جس روایت کی سند کا یہ حال ہووہ کیسے قابل حجت ہوسکتی ہے۔
جواب نمبر3:
بفرض محال اگر اسے امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کا صحیح قول مان بھی لیا جائے تو مرزا قادیانی پھر بھی جھوٹا ہے کیونکہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں رمضان کی جن تاریخوں میں یہ گرہن لگا تھا وہ اس قول کے مطابق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن لگا تھا۔ حالانکہ اس قول کے مطابق مہدی کی نشانی یہ ہے کہ اس زمانہ میں چاند گرہن رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو اور سورج گرہن پندرہ تاریخ کولگے گا۔
مرزائی عذر:
قانون قدرت یہ ہے کہ چاند گرہن ہمیشہ تیرہ، چودہ، پندرہ چاند کی تاریخوں میں سے کسی ایک تاریخ میں لگتا ہے اور سورج گرہن چاندکی ستائیس، اٹھائیس اور انتیس میں سے کسی ایک تاریخ کولگتا ہے۔ آج تک چاند کی پہلی تاریخ میں چاند گرہن اورپندرہ تاریخ میں سورج گرہن نہیں لگا۔ لہذا امام محمد باقر ؒکے قول میں ’’لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ‘‘سے مراد گرہن کی ان راتوں میں سے پہلی رات یعنی تیرھویں کی رات مراد ہے اور ’’ ِفی النِّصْفِ مِنْہُ‘‘ سے سورج گرہن کی تین تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ یعنی اٹھائیس (28)مراد ہے اور مرزا صاحب کے زمانہ میں رمضان کی تیرہ(13) کو چاند گرہن اور اٹھائیس (28)کو سورج گرہن لگا تو یہ گرہن امام محمد باقررحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق ہوگیا۔
جواب نمبر 1:
روایت کے الفاظ اس بے ہودہ تاویل کے ہر گز متحمل نہیں ہوسکتے۔ آپ نے فرمایا ’’لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ‘‘ نہ کہ ’’لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ لَیَالِی الْکُسُوْفِ‘‘ تیرہ رمضان کو کوئی احمق بھی اول رمضان نہیں کہتا اور نہ ہی ’’فِیْ النِّصْفِ مِنْہُ‘‘ سے مراد