باب چہارم

ہے اور اس کی موت 1908؁ء میں ہوئی۔ لہذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنی دلیل کے مطابق بھی جھوٹا ہے کیونکہ وہ23 سال کی مدت کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہوا۔ 

جواب نمبر4:

بالفرض اگر یہ قانون عام بھی تسلیم کرلیاجائے تو سچے نبیوں کے متعلق ہو گا جھوٹے نبیوں کو مہلت مل سکتی ہے۔ فرعون، نمرود اور بہاؤاللہ ایرانی وغیرہ کو جنہوں نے خدائی اور نبوت کا دعویٰ کیا ان کو بھی مہلت ملی اور جب مرزا کا دیگر دلائل سے جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا تو ان پر یہ قانون نہ لگے گا پہلے مرزا کے سچا نبی ہونے کا ثبوت پیش کرو۔ 

اہم فائدہ: 

مرزا پر جب علما ء نے اعتراض کیا کہ بعض ایسے مفتری بھی ہیں جو23 سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہوئے جیسے اکبر بادشاہ اور روشن دین جالندھری وغیرہ۔ اگر23 سال کے اندر ہلاک ہونا ضروری ہے تو یہ لوگ جنہوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے تھے 23سال کے اندر اندر ہلاک کیوں نہ ہوئے؟ 

تو مرزا قادیانی نے اس کا یہ جواب دیا کہ جن جھوٹوں کے نام آپ پیش کرتے ہیں ،آپ ثابت کریں کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہو اور اپنے پر وحی نازل ہو نے کا بھی دعویٰ کیا ہو پھر وہ23 سال تک زندہ رہے ہوں۔ کیونکہ ہماری تمام تر بحث وحی نبوت میں ہے۔ مطلق دعوے میں نہیں۔

 

خسوف و کسو ف والی دلیل

پیغمبر خدا  نے فرمایا کہ مہدی کی نشانی یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں رمضان المبارک کے مہینہ میں چاند اور سورج گرہن ہوگا۔ یہ نشان مرزا قادیانی پر پورا ہوتا ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی حدیث نبوی کے مطابق سچا مہدی ہے۔