باب چہارم
نبی گستاخ بنکرکوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے‘‘۔
جواب نمبر2:
اگر مرزاقادیانی اوراس کے متبعین کے اس اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو کئی سچے نبی نعوذ باﷲ جھوٹے بن جائیںگے اورکئی جھوٹے نبی سچے ہوجائیں گے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام اور ان کے علاوہ کئی اور اسرائیلی پیغمبر بہت تھوڑی عمر میں یعنی دعوائے نبوت کے بعد 23 سال کی مدت کے اندر اندر شہید کردیے گئے۔ مرزا کے اصول کے مطابق یحییٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء جو 23 سال کے اندر شہید ہوئے وہ جھوٹے بن جائیں گے نعوذ باﷲ اور کئی جھوٹے نبی سچے ہوجائیں گے۔ جیسے بہاء اﷲ ایرانی جو دعویٰ نبوت کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا، مرزا قادیانی کے اس اصو ل کے مطابق بہاء اﷲ جو صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا سچا ثابت ہورہا ہے۔ حالانکہ مرزا ئی اس کو جھوٹا مانتے ہیں۔ بہاء اﷲ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ 1269ھ میںکیا تھا اور 1309ھ تک زندہ رہا تو اس کی بعد ازدعویٰ نبوت کی زندگی چالیس سال بنتی ہے۔
جواب نمبر 3:
مرز اقادیانی اپنی دلیل کی رو سے بھی جھوٹا ثابت ہوتا ہے اس کا دعویٰ نبوت اگر چہ محل نزاع ہے کیونکہ اس کے ماننے والے دوجماعتوں میں منقسم ہیں لاہوری گروپ اس کو نبی تسلیم نہیںکرتا اور نہ اس کادعویٰ نبوت مانتا ہے اس کے برعکس قادیانی گروپ اس کو نبی مانتا ہے لیکن ان کی تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دعوائے نبوت 1901ء میں کیا
۱ ؎ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے اور متعدد آیات اس کا بیّن ثبوت ہیں۔نیزاحادیث صحیحہ کے مجموعہ میں بھی بکثرت روایات اس پر دلالت کرتی ہیں۔لہذا قادیانیوں کی اس تحریف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ محض ان کا روایتی دجل ہے۔