باب چہارم
قادیانی دلیل کا اجمالی جائزہ:
مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ خواہ کیسی ہی مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ حدیث کیوں نہ ہو اگر اُس کی مسیحیت اور منشاء کے خلاف ہوتی تو فورًا رد کر دیتا تھا۔ اور اس کے بالمقابل خواہ کیسی ہی ضعیف سے ضعیف یا موضوع روایت ہی کیوں نہ مل جائے فورًا اُسے قبول کر کے اپنی مسیحیت کی تائید میں ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتا تھا۔ چنانچہ دار قطنی کی رمضان المبارک میں خسو ف و کسوف کے اجتماع کی روایت اِس کی روشن دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نے 1891ء میں کتاب ازالہ اوہام تحریرکی۔ اُس میں لکھا ہے کہ:’’محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے‘‘۔
لیکن جب خود مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو ازالہ اوہام کے تقریباً 5برس بعد ایک رسالہ انوار الاسلام لکھا جو 6ستمبر 1894ء کو شائع ہوا۔ اُس میں اپنی مہدویت کی تائید میں دارقطنی کی رمضان المبارک میں خسوف و کسوف والی روایت کو پیش کیا۔ جب 5بر س مزید گزرے تو اپنی مسیحیت کا طلسم 1899ء میں رسالہ حقیقت المہدی لکھ کر ان الفاظ میں توڑ دیا کہ:
’’اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارہ میں ہیں ہر گز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں‘‘ ۔
ہم کہتے ہیں کہ جب مہدی کے آنے کے بارے میں تمام حدیثیں قابل اعتبار نہیں ہیں تو پھر مرزا قادیانی آنجہانی نے خود مہدویت کا دعویٰ ہی کیوں کیا؟ اب آگے دیکھئے۔1903ء میں ایک کتاب ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ لکھی۔ اس کے صفحہ2 پر یہ لکھ مارا کہ ’’وہ آخری مہدی جو تنزلِ اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو (۱۳۰۰)