باب چہارم

مرزا کی بیویوں کی گواہی:

اب مرزاقادیانی کی بیویوں کی گواہی و حالت سنیں: مرزا قادیانی اپنی پہلی بیوی فضل احمد اور سلطان احمد کی ماں المعروف ’’پھجے دی ماں‘‘ سے فضل احمد کی پیدائش کے بعد تقریبًا 33 سال عملاً الگ رہا نہ اسے طلاق دی اور نہ ہی اسے بیوی کی طرح بسایا بلکہ عملاً مجرد  رہ کر آیت کریمہ ’’فَلَا تَمِیْلُوْاکُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِ‘‘ 

 یعنی’’البتہ کسی ایک طرف پورے پورے نہ جھک جاؤکہ دوسری کو ایسا بنا کر چھوڑدوجیسے کوئی بیچ میں لٹکی ہوئی چیز۔‘‘(آسان ترجمۂ قرآن) کی صریح مخالفت کی۔ اسی طرح  وَعَاشِرُوْ ھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء:19) یعنی ’’اوران کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو‘ (آسان ترجمۂ قرآن)کی بھی صریح مخالفت ہوئی۔ 

حوالہ نمبر 1:

حافظ نور محمد متوطن فیض ا چک نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ فرمایاکرتے تھے کہ سلطان احمد (مرزا سلطان احمد صاحب) ہم سے سولہ سال چھوٹا ہے اور فضل احمد بیس برس اور اس کے بعد ہمارا اپنے گھر سے کوئی تعلق نہ رہا‘‘۔

 حوالہ نمبر 2:

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح علیہ السلام (مرزا قادیانی) کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کاان کی طرف میلان تھاا ور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اسلئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی‘‘۔

اس حوالہ کی چند سطور کے بعد لکھا ہے ’’حتی کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کرکے محمدی بیگم کانکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ (مرزا کی پہلی بیوی )نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں تب حضرت صاحب