باب چہارم
کہ وہ کہاں کہاں خرچ ہوا؟ بصورت دیگر آپ کے نبی کی عصمت باقی نہیں رہتی اور آپ کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی دعویٰ ٔنبوت سے قبل کی زندگی بالکل بے داغ تھی۔
جواب نمبر 8:
مرزا قادیانی کا کردار جوانی میں بھی اچھا نہیں تھا
نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان کے سامنے اپنی صفائی کا اعلان کیاانہوں نے یک زبان ہو کر اعلان کیا کہ ’’مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا‘‘
یعنی ہم نے آپ کو بار بار آزمایا پس ہم نے تجھ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں پایا۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی اپنی صفائی میں مولوی محمد حسین پیش کرتا ہے جو کہ کچھ تھوڑا عرصہ اس کے ساتھ رہا تھا حالانکہ وہ مرزا قادیانی کے شہر کا رہنے والا بھی نہ تھا ۔ ۱ ؎
حضور اکرم ﷺ کی صفائی تو آپکے قبیلے کے سردار حضرت ابوسفیانؓ (المتوفّٰی20ھ) نے ہِرَقْلْ بادشاہ کے سامنے اسوقت پیش کی تھی جبکہ ابھی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی طرح حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا(المتوفّیہ10نبوی) جو آپ ﷺ کی رفیقہ حیات تھیں انہوں نے آپ کی پہلی زندگی کی صفائی پیش کی، جبکہ آپ کی طرف پہلی دفعہ جبرائیل امین آئے تھے اور آپ ﷺ کی آخری زندگی کی صفائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا (المتوفّیہ58ھ)پیش کررہی ہیں فرماتی ہیں:
’’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ‘‘یعنی آپ کا اخلاق قرآن ہے۔
۱ ؎ مرزا قادیانی خود اقرار کرتا ہے کہ ’’ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد اور کیاعورت مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکّار اور دکاندارخیال کرتے ہیں اور بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے۔