باب چہارم
ن کو طلاق دے دی‘‘۔
نوٹ:
مرزا نے دوسری شادی نصرت جہاں بیگم سے 1884ء میں کی تھی اور پھجے کی ماں کو 1892ء میں طلاق دی تھی اور7اپریل 1892ء میں محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمدسے ہوا۔
2۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا والی دلیل:
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا:
’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِo لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَo‘‘
یعنی اگر محمد مصطفی ﷺ مجھ پر کوئی جھوٹا افترا باندھتے، میںان کی شہ رگ کاٹ کر ہلاک کردیتا۔
اس سے ثابت ہوا کہ اگر مرزا قادیانی خدا تعالیٰ پر جھوٹا افترا کرتا تو اسے23 سال کے اندر اند رہلاک کردیا جاتا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی جاتی کیونکہ نبی اکرم ﷺ دعویٰ نبوت کے بعد 23 سال تک بقید حیات رہے۔
جواب نمبر1
اس آیت کا سیاق وسباق دیکھیں تو بات واضح ہوجائے گی کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشادکسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں۱ ؎بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضور ﷺ کے متعلق یہ بات کہی جارہی ہے اور یہ بھی اس بنا ء پر کہ بائبل میں موجود تھا کہ اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تووہ جلد مارا جائے گا: چنانچہ لکھا ہے:
’’میں اُنکے لئے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جوکچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وُہ اُن سے کہیگا۔اور جوکوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرانام لیکر کہیگا نہ سنے تو میںاُنکا حساب اُس سے لونگا۔ لیکن جو