باب پنجم
تَوَفِّی کے معنی پر مرزا قادیانی کا چیلنج
حوالہ نمبر1:
اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ تَوَفِّی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو ہمیشہ اس جگہ تَوَفِّیکے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں ۔
جواب نمبر 1: جاہلِ مطلق مرزا قادیانی کو یہ بھی علم نہیں کہ لفظ کے معنی کی بحث علم النحومیں ہوتی ہے یا علم لغت میں، یہ محض مرزا کا من گھڑت قاعدہ ہے کسی اما م لغت نے یہ قاعدہ تحریر نہیں کیا اگر کوئی قادیانی کسی امام لغت سے یہ قاعدہ دکھا دے تو ہم اسے دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔
جواب نمبر 2: مرزا کا یہ من گھڑت قاعدہ اسکی اپنی تحریر سے ٹوٹ رہا ہے۔
الف:۔
میں’’ مُتَوَفِّیْکَ ‘‘کا معنی لکھا ہے ’’ میں تجھے پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔‘‘
ب:۔ براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یَاعِیْسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ جو سترہ (۱۷)برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اسوقت خوب معنے کھلے ہیں یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اسوقت بطور تسلّی ہؤا تھا جب یہود ان کو مصلوب کرنے کی کوشش کررہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود ، ہنود کوشش کررہے ہیں اور الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی مَوتوں سے بچاؤں گا