باب پنجم

بحث لفظ ’ تَوَفِّی‘

اس لفظ کا مادہ ہے ’’وَفَیَ‘‘ یعنی جب یہ مادہ باب تفعل میں چلا جائے تو اس کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہوں گے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:’’أَتَوَفَّیْتَ الثَّمَنَ؟َ‘‘

یعنی’’کیا تم نے قیمت پوری وصول کرلی؟‘‘
                ہاں البتہ اگر کوئی قرینہ موجود ہو تو مجازاً موت اور نیند کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے:
              ’’وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ‘‘۔(اَلانعام :60) یعنی’’اوروہی ہے جو رَات کے وقت (نیندکی حالت )میں تمہاری روح قبض کر لیتا ہے‘‘۔اسی طرح:
’’اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْانْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا‘‘۔ (الزمر :42)
ترجمہ:         ’’اﷲتمام روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں قبض کر لیتا ہے‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
یہ آیات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ ’’تَوَفِّی‘‘ کا حقیقی معنی موت نہیں ہے اگر اس کا حقیقی معنی موت ہوتا تو موت اور تَوَفِّیکا تقابل درست نہ تھا یہاں آیت میں تَوَفِّیکے ساتھ موت او رعدم موت دونوں جمع ہورہی ہیں۔

تَوَفِّی کا معنی اَز کتب سلف:

1} ’’ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اَیْ عَلَی التَّقْدِیْمِ وَالتَّاخِیْرِ وَقَدْ یَکُوْنُ الْوَفَاتُ قَبْضَاً لَیْسَ بِمَوْتٍ.‘‘

یعنی’’ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ مقدم و موخر ہیں اورلفظ’’ وفات‘‘ قبضہ (بھر لینا)یعنی پورا پورا لے لینے کے معنی میں ہوتا ہے نہ کہ موت کے( معنی میں )۔‘‘
2}     ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ اَلْتَوَفِّیْ اَخْذُ الشَّیْئِ وَافِیاً وَالْمَوْتُ نَوْعٌ مِّنْہُ.‘‘