باب پنجم

حاصل یہ ہوا کہ ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ مقدم اور مؤخر کی قبیل سے ہے یعنی رَافِعُکَ کا پہلے اور مُتَوَفِّیْکَ بعد میں ہے۔
            وجہ اس کی یہی ہے کہ واؤ مطلق جمع کیلئے آتا ہے اس میں ترتیب ملحوظ نہیں ہوتی۔ یہاں بھی واؤ کے ذریعے عطف کیا گیا ہے اس لئے ترتیب کا ہونا ضروری نہیں۔
اعتراض: مرزا قادیانی کے پاس جب کوئی جواب نہ بن آیا نہایت جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ وائو ترتیب کے لیے ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب کو الٹنا یہ مسلمان کا کام نہیں ہے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا۔ وہ صحیح ترتیب سے کلام فرما دیتے۔ اے مسلمان مولویو! تمہیں اللہ تعالیٰ کے کلام میں تغیر و تبدّل کرنے سے شرم نہیں آتی۔

جواب نمبر1:
              تمام علمائِ نحو اس بات پر متفق ہیں کہ واؤ ترتیب کیلئے نہیں ہوتی بلکہ مطلق جمع کیلئے ہوتی ہے بخلاف ثم اور فاء کے ۔ ’شرح مائۃ عامل‘ کا طالب علم بھی اس سے آگاہ ہے۔
جواب نمبر 2:
                قرآن مجید میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ واؤ ہمیشہ ترتیب کیلئے نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت مریم ؑکو فرمایا:
’’ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ‘‘ ۔( آل عمران :43)یعنی’’اور سجدہ کیا کر اور رکوع کیا کر‘‘۔
’’فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰ خِرَۃِ وَالْاُوْلٰی‘‘۔( اَلنازعات :25 )
                    یعنی ’’ پس اﷲ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیاکے عذاب میں پکڑ لیا۔‘‘
جواب نمبر 3:
اس پوری آیت میں مرزائیوں کے نزدیک بھی ترتیب ٹھیک نہیں ہے کیونکہ