باب پنجم

مرزائیوں کی تفسیر کے مطابق آیت کا معنی یوں ہوگا: ’’اے عیسیٰ میں تجھے پہلے موت دینے والا ہوں اس کے بعد تیرا روحانی رفع یا رفع درجات کروں گا اس کے بعد تجھے کافروں سے پاک کروں گا اور اس کے بعد تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر غالب کروں گا۔‘‘
                  اب مرزائیوں کے خیال کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی وفا ت کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے بعد واقعہ صلیب سے 87 سال بعد کشمیر میں ہوئی تو اب مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (میں تجھے کافروں سے پاک کروں گا) پہلے ہوگیا اور وفات اور رفع 87 بر س بعد ہوا جس سے معلوم ہو اکہ ترتیب مرزائیوں کے نزدیک بھی قائم نہ رہی واقعہ کے طور پر تطہیر پہلے ہوئی او ر اس کے بعد وفات پھر رفع اور پھر غلبہ۔
                   اُلجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
                  لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
جواب نمبر 4:
کئی ایک مفسرین نے یہاں ترتیب کو الٹ کر تفسیر کی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس کی تفسیر میں گزرچکا ہے۔
جواب نمبر 5:
عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق افراط کا شکا رہوئے اور انہیں الٰہ تک بنا دیا اور یہود تفریط کے قائل ہوئے تو درجہ نبوت سے بھی نیچے گرادیا۔ خدا تعالیٰ کو دونوں کی تردید کرنا مقصود تھی عیسائیوں نے شرک کیا تھا اور یہود نے گستاخی رسول، چونکہ شرک بہرحال گستاخی رسول سے بڑا جرم ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ نے پہلے اس کی تردید کی لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘سے کہ میں تجھے موت دوں گا۔ مطلب صاف ظاہرہے کہ جس پر موت آتی ہے وہ الٰہ اور معبود نہیں ہوسکتا اس کے بعد یہود کی تردید ’’وَرَافِعُکَ اِلَیّ‘‘َ سے کی یعنی تم نے میرے رسول کی شان میں کمی کی میں نے تو ان کو اوپر اٹھا لیا او راوپر اٹھانے سے ان کی رفعت شان ظاہر ہوئی۔