باب پنجم
یہ چا روعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اﷲ تعالیٰ نے اس وقت کئے جب یہود نامسعود آپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرچکے تھے یہاں پر ’’رَافِعُکَ‘‘ میں جو رفع کا وعدہ ہے وہ باتفاق تما م مجددین و مفسرین رفع جسمانی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب سے قبل جس قدر مجدد ین گذرے ہیں کوئی ایک مجدد بھی ایساپیش نہیں کیاجاسکتا جس نے یہاں رفع سے مراد رفع درجات یا رفع روحانی لیا ہوا لبتہ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی میں علما ء کرام کی دو رائے ہیں۔ اکثر علماء نے اس کا معنی ’’پورا پورا لینے کا‘‘ کیا ہے یعنی جسد مع الروح کیونکہ یہی ’’تَوَفِّی‘‘ْ کا حقیقی معنی ہے ۔ بعض علماء نے ’’مُتَوِفِّیْکَ‘‘کا معنی ’’مُمِیْتُکَ‘‘لیا ہے جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے منقول ہے لیکن یہ بھی ہمیں مضر نہیں ہے اس لئے کہ جن حضرات نیتَوَفِّی کا معنی موت کا لیا ہے وہ اس میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں یعنی
مُمِیْتُکَ فِیْ وَقْتِکَ بَعْدَ النُّزُوْلِ مِنَ السَّمَآئِ وَرَافِعُکَ اَلْآ نَ۔
یعنی اب تو تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور آسمان سے اترنے کے بعد تیری موت کے وقت تجھے ماروں گا۔
تفسیر ابنِ عباس بھی ملاحظہ فرمائیں: (اِذْقَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ) ۔ مُقَدَّمٌ وَ مُؤَخَّرٌ یَقُوْلُ اِنِّیْ رَافِعُکَ ۔۔۔ ثُمَّ مُتَوَفِّیْکَ قَابِضُکَ بَعْدَالنُّزُوْلِ۔
حاصل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایاکہ قول(اِذْقَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ)مقدم و مؤخر کی قبیل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔۔۔ پھر تجھے وفات دوں گا یعنی تیری روح قبض کروں گا نزول کے بعد۔
ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں تقدیم و تاخیر کا ذکر یوں فرماتے ہیں: عَنْ اِبْنِ اَبِیْ حَاتِمٍ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: ھٰذَا مِنَ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَخَّرِ أَیْ: رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُتَوَفِّیْکَ۔