باب پنجم

خفیہ تدبیریں شروع کردیں حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (مَعَاذَاﷲ)ملحد ہے،تورات کوبدلنا چاہتا ہے ، سب کو بد دِین بنا کر چھوڑے گا ۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا ادھر یہ ہورہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف اور خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کررہی تھی جس کا آگے ذکر آئے گا ۔ بے شک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے جسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔

آیت نمبر2:
                    ’’ اِذْقَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.‘‘(آل عمران:55)
ترجمہ :     (اِس کی تدبیر ُاس وقت سامنے آئی) جب اللہ نے کہا تھاکہ ’’اے عیسیٰ! میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا، اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اُن (کی ایذا) سے تمہیں پاک کر دوں گا۔ اور جن لوگوں نے تمہاری اتباع کی ہے، اُن کو قیامت کے دن تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا، جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ ‘‘ (آسان ترجمۂ قرآن)

چاروعدوں کا خلاصہ:     یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی کی صریح دلیل ہے اس میں اﷲ تعالیٰ نے یہودیوں کی تدبیر کے بالمقابل عیسیٰ علیہ السلام کواس وقت تسلی دی جب یہود ان کے گھر کا گھیراؤ کر چکے تھے۔اور ان کو گرفتار اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چا روعدے فرمائے ہیں:
1- یہ کہ تمہیں اپنے قبضے میں لوں گا، یہودی گرفتار یا قتل نہیں کر سکیں گے۔
2-  قبضے کی صورت یہ ہے کہ تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا۔
3-  کفار یعنی یہود کے نا پاک ہاتھوں سے تمہیں پاک رکھوں گا۔
4-  تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔