باب پنجم

بھائیوں کی طرح فوت ہوگئے اور اپنے ہم عصر لوگوں کی طرح وفات پاگئے اور ان کی حیات کا عقیدہ عیسائی مذہب سے مسلمانوں میں در کر آیا ہے‘‘۔

جواب نمبر 4:     یہ اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں بن سکتی کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی ۔

اثبات رفع ونزول اَز رُوئے احادیث باقوال مرز ا قادیانی

مرزا قادیانی خود رفع و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام احادیث سے ثابت کرتا ہے۔چند ایک حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
حوالہ نمبر 1:
’’ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیںکوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے انجیل بھی اُس کی مصدّق ہے۔

تواتر کا حکم بھی مرزا صاحب کی تحریر سے ملاحظہ فرمائیں: ’’تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رُو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے‘‘۔

حوالہ نمبر 2:
’’اب پہلے ہم صفائی بیان کیلئے یہ لکھناچاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کیساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر