باب پنجم

ماموراور مجدد تھا اور اس کتاب پر دس ہزار کا اشتہار بھی دیا گیا تھا۔

نوٹ:     مجدّد کی تعریف آپ اس بحث کی ابتدامیں پڑھ چکے ہیں،اُس کی روشنی میں درج بالاعبارت کوذہن نشین کر لیں۔
جواب نمبر 3:     یہ رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی اس لئے بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ کتاب بقول مرزا صاحب نبی اکرمﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس کانام ’’قطبی‘‘ بتایا گیا ہے یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔

تو اگر اس کے اس عقیدہ کو رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی کہہ کر غلط قرار دیا گیا تو یہ قطبی نہیں رہے گی اور اس کے دلائل مستحکم اور غیر متزلزل نہیں ہوں گے خصوصاً جب کہ (بقولِ مرزا)نبی اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں آچکی او رآپ کی مبارک نظر سے گذرچکی تو آپ نے ایسی فاش غلطی جو مرزا صاحب کے نزدیک شرک عظیم ہے اس کو آپ نے کس طرح نظر انداز کر دیا۔
دیکھو مرزا کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک عظیم ہے:
’’ فَمِنْ سُوْئِ الْاَدَبِ اَنْ یُّقَالَ اِنَّ عِیْسٰی مَامَاتَ وَاِنْ ھُوَ اِلَّا شِرْکٌ عَظِیْمٌ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ وَیُخَالِفُ الْحِصَاۃَ بَلْ ھُوَ تُوَفِّیَ کَمَثَلِ اِخْوَانِہٖ وَمَاتَ کَمَثَلِ أَھْلِ زَمَانِہٖ وَاِنَّ عَقِیْدَۃَ حَیَاتِہٖ قَدْ جَائَ تْ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ مِنَ الْمِلَّۃِ النَّصْرَانِیَّۃِ‘‘۔

ترجمہ:     ’’پس یہ کہنا بے ادبی ہوگی کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوئے اور یہ شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھاجاتا ہے۔ اور یہ ہے بھی عقل کے خلاف۔ بلکہ وہ (عیسیٰ) اپنے دوسرے (رسول)