باب پنجم

حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے ‘‘۔اس عبارت میں مرزا خود تسلیم کر چکا ہے کہ عیسائیوں کے تما م فرقے اور چاروں انجیلیں اس عقیدہ پر متفق ہیں ۔ لہٰذا اعتراض ہی ختم ہوگیا اور ہمارا سوال علیٰ حالہ قائم رہا جس کا مرزائیوں کے پا س کوئی جواب نہیں ہے۔
مرزائی عذر نمبر3:
ایلیا نبی کے متعلق یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھایا گیا ہے او رپھر دوبارہ نازل ہوگا جس طرح عیسائیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عقیدہ ہے تو کیا یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط؟؟ اگر غلط ہے تو قرآن و حدیث سے اس کی تردید دکھائیں اور اگر تردید نہ پائی جائے اور قرآن و حدیث خاموشی اختیار کریں تو تمہارے اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ یہودیوں کا ایلیا کے بارے میں یہ عقیدہ ٹھیک ہے جیسا کہ تم ہمیں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہو۔
جواب نمبر1:
یہ اصول صرف ہمارے نزدیک ہی مسلّم۔۔۔ نہیں ہے بلکہ یہ اصول قادیانیوں نے بھی تسلیم کیا ہے جیسا کہ ریویو آف ریلیجنز کاحوالہ گزر چکا ہے۔
لہذا تمہارے اس تسلیم شدہ اصول کے مطابق اگر قرآن مجید نے ایلیا علیہ السلام کی آمد ثانی کی تردید نہیں کی تو ثابت ہوا کہ ان کا یہ عقیدہ درست ہے بقول شخصے:
اُلجھا ہے پائوں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
جواب نمبر2:
یہودیوں کے اس عقیدہ کی تردید کا مطالبہ قرآن و حدیث سے کرنا صریح حماقت اور جہالت ہے اس لیے کہ ایلیا کا تذکرہ ایجابی یا سلبی رنگ میں قرآن و حدیث میں مذکور نہیں لہٰذا ان کا محض بائبل یا تورات میں ذکر ہونا کافی نہیں بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کا ذکر قرآن و حدیث میں بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ایلیا کو عیسیٰ علیہ السلام پر