باب پنجم

سے عیسائیوں کے رفع او رنزو ل کا عقیدہ خود بخود باطل ہوگیا قرآن مجید میں تیس سے زائد آیات ِوفات ِعیسیٰ کے بارے میں موجود ہیں۔ ۱؎
جواب: تیس آیات نہیں اگر تیس پارے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کردیں تو اس سے عیسائیوں کے رفع اور نزول کے عقیدہ کی تردید نہیں ہوگی کیونکہ خود عیسائی موت کے تو قائل ہیں لیکن ساتھ ساتھ موت کے تین دن بعد زندہ اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب بہ جسد عنصری نازل ہونے کے بھی قائل ہیں اگر عیسائیوں کا رفع و نزول کایہ عقیدہ غلط ہے تو ضرورت اس کی تردید کی ہے ،صرف موت سے اس عقیدہ کی تردید نہیں ہوگی۔

مرزائی عذر نمبر 2:    ’’اور یہ بیان بھی صحیح نہیں ہے کہ عیسائیوں کا ’’ مُتَّفَقٌ عَلَیہ‘‘ یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ دنیا میں پھر آئیں گے کیونکہ بعض فرقے ان کے حضرت مسیح کے فوت ہوجانے کے قائل ہیں اور حواریوں کی دونوں انجیلوں نے یعنی متی اور یوحنا نے اس بیان کی ہر گز تصدیق نہیں کی کہ مسیح درحقیقت آسمان پر اٹھا یاگیا۔

جواب نمبر 1:     غلط بالکل غلط یہ مرزا کی یا تو صریح کذب بیانی ہے یااس کی جہالت کیونکہ ان دونوں کتابوں میں اس عقیدہ کا ذکرموجود ہے اس کے حوالے ما قبل گزر چکے ہیں۔

جواب نمبر 2:     دروغ گو را حافظہ نہ باشد کے مصداق مرز اقادیانی اپنی اسی کتاب ازالہ اوہام حصہ اول ص248 روحانی خزائن جلد3ص225 پر تحریر کرچکا ہے کہ:
         ’’کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک