باب پنجم
قیاس کرنا غلط ہے یہ قیاس، قیاس مع الفارق ہے۔ ۱ ؎
اعتراض: یہودی ایلیا کے بجسدہ آنے کے منتظر تھے حالانکہ ایلیا سے مراد ان کا مثیل یوحنا نبی تھا اسی طرح عیسیٰ سے مراد بھی ان کا مثیل مراد ہے نہ کہ بعینہ عیسیٰ بن مریم۔
جواب: اس ساری کہانی کا دارومدار بھی بائبل وغیرہ پر ہے جو عقلاً اور نقلاً محرف ہے قرآن و حدیث سے اس کی کوئی نظیر ہو تو پیش کیجئے جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق قرآن و حدیث میں ہے۔مرزا قادیانی بھی اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’تمام فیضوں کا سرچشمہ قرآن ہے، نہ انجیل نہ تورات۔جو قرآن کو چھوڑ کر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد ہے اور کافر۔
اسی طرح مزید لکھتا ہے کہ’’بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت ﷺکے زمانہ تک ردّی کی طرح ہو چکی تھیںاور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے۔جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدّل ہیںاور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔چنانچہ اس واقع پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔پس جبکہ بائبل محرف مبدّل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔‘‘
خلاصہ کلام: کلام سابق سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہوگئی کہ اصل بحث رفع و نزول کی ہے نہ کہ حیات و وفات کی جس کو مرزائیوں نے اپنی چالاکی اور عیاری سے موضوع بحث بنا رکھا ہے۔
۱؎ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ’’حضرت ایلیا علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور یہودیوں کے دلوں کو مسیح موعود سے پہلے آکر درست کرنا بدیہی البطلان ہوا۔ ہاں یہ مسئلہ بغیر قرآن کریم پر ایمان لانے کے سمجھ میں نہیں آتااور اگر توریت پر ہی حصر رکھا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسیح ہرگز نبی صادق نہیں تھا۔