باب ہفتم
ایمہ گئے ہیں والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب بچپن میں چڑیا پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گائوں میں چڑیا ں پکڑا کرتا تھا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون مراد ہے ۔ آخر معلوم ہوا کہ اُن کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔
اور انگلی کٹ گئی
خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اُس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اس لیے حضرت صاحب اس چوزے کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی۔ جس سے بہت خون بہہ گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔
جیب میں اینٹ
آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی ایک جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈالدی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ اینٹ چُہتی۔ کئی دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری پسلی میں درد ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چُہتی ہے،، وہ حیران ہو اا ور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اُس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جہٹ جیب سے نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔ کہ چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی۔ اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں۔ میں اس سے کھیلوں گا۔