باب ہفتم

تصویر کا دوسر ارخ 

-1  اس سلسلہ میں اس سے قبل ایک حوالہ گزر چکا ہے گول منہ والی اور لمبے منہ والی لڑکی۔ 

-2  ’’مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے وقت میں مَیںاور اہلیہ بابوشاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا ۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ان ایام میں عام طور پر پہرہ پرمائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں‘‘۔   

-3  ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیاکہ میں تین ما ہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام (مرزا قادیانی) کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی مجھ کو اس اثنا میں کسی قسم کی تھکان اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اورنہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔ حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔  

-4  ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی