باب ششم

جواب نمبر 1: 

یہاں پر ’’لا‘‘ نفی جنس کا ہے او رنفی عام ہے۔ جیسا کہ مرزا نے خود تسلیم کیا ہے کہ : ’’اَلَا تَعْلَمُ اَنَّ الرَّبَّ الرَّحِیْمَ الْمُتَفَضِّلَ سَمّٰی نَبِیَّنَا ﷺ خَاتَمَ الاَنْبِیَائِ بِغَیْرِ اسْتِثْنَائٍ وَفَسَّرَہُ نَبِیُّنَا ﷺ فِیْ قَوْلِہٖ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ بِبَیَانٍ وَّاضِحٍ لِلطَّالِبِیْنَ وَلَوْ جَوَّزْنَا ظُھُوْرَ نَبِیٍّ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ لَجَوَّزْنَا انْفِتَاحَ بَابِ وَحْیِ النُّبُوَّۃِ بَعْدَ تَغْلِیْقِھَا وَھٰذَا خُلْفٌ کَمَا لَا یَخْفٰی عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَکَیْفَ یَجِیْئُ نَبِیٌّ بَعْدَرَسُوْلِناَ ﷺ وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ بَعْدَ وَفَاتِہٖ وَخَتَمَ اﷲُ بِہِ النَّبِیِّیْنَ‘‘۔  

ترجمہ: ’’کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی  کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو یہ لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازہ کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیںاور آنحضرت کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہو گئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔‘‘

مرزا صاحب نے کس صراحت کے ساتھ ’’خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ‘‘ اور ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کا وہی ترجمہ اور مفہوم لیا ہے جو ہم لیتے ہیں باقی رہا عیسیٰ علیہ السلام والا اعتراض تو اس کا جواب گزر چکا ہے ان کی آمد سے کسی قسم کا فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے دوبارہ آنے سے انبیاء کی فہرست میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔ 

جواب نمبر2: 

جیسے ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ‘‘ میں اﷲ کے بعد اﷲ تعالیٰ کے سواکوئی ظلی بروزی خدا نہیں اسی طرح ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘  میںبھی یہی مفہوم ہوگا۔ 

اعتراض نمبر1: 

’’لَانَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوگا جیسا کہ اکثر علماء کی تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوسکتا نبی کریم ﷺ کی مراد بھی یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد بتلائی ہے اس سے معلوم ہوا کہ’’لا‘‘ میںعام نفی مراد نہیں ہے۔