باب پنجم
ترجمہ: ’’اورمحمد (ﷺ) نرے رسول ہی تو ہیں، آپ سے پہلے اور بھی بہت رسول گزر چکے ہیں۔‘‘
ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے تمام رسول فوت ہوچکے ہیں اسی طرح نبی اکرمﷺ سے پہلے بھی تمام رسول فوت ہوچکے ہیں جس سے نتیجہ نکلا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوچکے ہیں۔
جواب نمبر 1:
کسی مفسر یامجدد نے یہ معنی مراد نہیں لئے کہ حضور ﷺ سے پہلے تمام نبی فو ت ہوچکے ہیں او رعیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوچکے ہیں اگر ہمت ہے تو کسی ایک مجدد کا نام پیش کرو جس نے اس آیت کا مطلب یہ لکھا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔
جواب نمبر2:
یہاں خَلَتْ کے معنی مَضَتْ ہیں جیسا کہ تمام مفسرین نے اس کے یہی معنی کئے ہیں۔ قرآن میں اس کے نظائر موجو دہیںجن میں معنی موت کے نہیں مثلاً :
’’وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ طقُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْط‘‘
ترجمہ: اور (منافقین)جب علیحدہ ہوتے ہیں تو اپنی انگلیاں غصے سے کاٹتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ اپنے غصے میں مرجاؤ۔
’’کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیْ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھَآ اُمَمٌ‘‘
ترجمہ: (اے پیغمبر! جس طرح دوسرے رسول بھیجے گئے تھے )اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں۔
حالانکہ اس وقت بھی بگڑی ہوئی امتیں موجودہیںیعنی یہود و نصاریٰ موجود ہیں۔یہاں بھی قادیانی ذرا ’’خُلُوًّا ‘‘ کا معنی موت کرکے دکھائیں۔