باب پنجم

ترجمہ: اور کوئی اہل کتاب سے ایسا فرد نہیں رہے گاجو اُس کی موت سے قبل اُس پر ایمان نہ لے آوے اور وہ قیامت کے روز اُن پر گواہ ہوگا۔‘‘
             حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے تفسیر:آیت مذکورہ میں ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ دونوں ضمیروں کا ’’مَرْجَعْ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور آیت کا مطلب ہے کہ آئندہ زمانہ میں جس قدر اہل کتاب موجود ہونگے تمام کے تمام عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے قبل ان پرایمان لائیں گے۔ یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اب تک فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے۔ تمام مفسرین نے آیت مذکورہ کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ دیکھئے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی:
          ’’ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَن یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدَ لًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیُفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ اَحَدٌ ،وَحَتَٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُالْوَاحِدَۃُ خَیْرٌمِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَ اقْرَ ؤُوْا اِنْ شِئْتُم {وَاِنْ مِّنْ أَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ …الخ.}‘‘

فرمایا’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یقینا وہ زمانہ قریب ہے جب کہ ابنِ مریم تمہارے درمیان اتریں گے وہ ایک منصف فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے آئیں گے،صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کردیں گے اور ان کے دور میںمال اس طرح بہہ پڑے گا کہ کوئی شخص اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گااور لوگوں کی نظروں میں ایک سجدہ کی قدروقیمت دنیا و مافیھا سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہ مضمون روایت فرما کرحضرت ابوہریرہ(عبدالرحمن بن صخر المتوفٰی58ھ) رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اگر تم اس مضمون کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو سورۃ النساء کی یہ آیت پڑھ لو وَاِن مِّنْ أَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ …الخ‘‘۔