باب پنجم

جواب نمبر4:
مرزا قادیانی ذات باری تعالیٰ کو آسمان پر تسلیم کرتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
1) ’’لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے‘‘۔

) ’’ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش ماررہی ہے‘‘۔

3) مرزاقادیانی کا الہام ہے:
فرزند دلبند گرامی ارجمند            مَظْھَرُ الْاَوَّلِ وَالْاٰخِرِ
مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَائِ               کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَ لَ مِنَ السَّمَآئِ

ترجمہ: فرزند دلبندگرامی۔ بزرگ اور اقبال مند حق اور رفعت کا مظہر۔ گویا کہ خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔

دیکھئے مرزاقادیانی کتنی صراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو آسمانوں پر تسلیم کر رہا ہے ۔
جواب نمبر5:
خو دمرزا کا قول ہے ’’اَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ المَسِیْحَ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ بِجَمِیعِ عُلُوْمِہٖ.‘‘

ترجمہ:      ’’کیا لوگ نہیں جانتے کہ مسیح آسمان سے تمام علوم کے ساتھ اتریں گے۔‘‘

آیت نمبر4:
’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا.‘‘( النساء :159)